EN हिंदी
کوئی کچھ بتائے گا کیا ہو گیا | شیح شیری
koi kuchh bataega kya ho gaya

غزل

کوئی کچھ بتائے گا کیا ہو گیا

عبید صدیقی

;

کوئی کچھ بتائے گا کیا ہو گیا
یہاں کیسے ہر بت خدا ہو گیا

تذبذب کا عالم رہا دیر تک
بالآخر میں اس سے جدا ہو گیا

اسے کیا مجھے بھی نہیں تھی خبر
کہ میں قید سے کب رہا ہو گیا

زمیں پیاس سے اتنی بے حال تھی
سمندر نے دیکھا گھٹا ہو گیا

یہ دنیا ادھوری سی لگنے لگی
اچانک مجھے جانے کیا ہو گیا

شراب ہم نے یکساں ہی پی تھی مگر
تجھے اس قدر کیوں نشہ ہو گیا