EN हिंदी
کوئی خدشہ ہے نہ طوفان بلا کچھ بھی نہیں | شیح شیری
koi KHadsha hai na tufan bala kuchh bhi nahin

غزل

کوئی خدشہ ہے نہ طوفان بلا کچھ بھی نہیں

بختیار ضیا

;

کوئی خدشہ ہے نہ طوفان بلا کچھ بھی نہیں
اب نہ غمزہ ہے نہ انداز و ادا کچھ بھی نہیں

عشق کہتے ہیں کسے حسن ہے کیا کچھ بھی نہیں
میری آنکھیں تری صورت کے سوا کچھ بھی نہیں

کب سے ویران پڑی ہے مرے دل کی دنیا
کوئی نغمہ کسی پائل کی صدا کچھ بھی نہیں

زہر سے کم نہیں یہ ساغر مے میرے لئے
تو نہیں ہے تو یہ موسم یہ فضا کچھ بھی نہیں

تیرے چہرے پہ قیامت ہے حیا کی سرخی
رنگ گل رنگ شفق رنگ حنا کچھ بھی نہیں