کوئی دستک کوئی ٹھوکر نہیں ہے
تمہارے دل میں شاید در نہیں ہے
اسے اس دشت کا کیا خوف ہوگا
وو اپنے جسم میں ہو کر نہیں ہے
میاں کچھ روح ڈالو شاعری میں
ابھی منظر میں پس منظر نہیں ہے
تری دستار تجھ کو ڈھو رہی ہے
ترے کاندھوں پہ تیرا سر نہیں ہے
اسے لعنت سمجھئے آئنوں پر
کسی کے ہاتھ میں پتھر نہیں ہے
یہ دنیا آسماں میں اڑ رہی ہے
یہ لگتی ہے مگر بے پر نہیں ہے
غزل
کوئی دستک کوئی ٹھوکر نہیں ہے
مینک اوستھی

