EN हिंदी
کوئی بھی شہر میں کھل کر نہ بغل گیر ہوا | شیح شیری
koi bhi shahr mein khul kar na baghal-gir hua

غزل

کوئی بھی شہر میں کھل کر نہ بغل گیر ہوا

سلطان اختر

;

کوئی بھی شہر میں کھل کر نہ بغل گیر ہوا
میں بھی اکتائے ہوئے لوگوں سے اکتا کے ملا

دن کے کاندھے پہ دہکتے ہوئے سورج کی صلیب
رات کی گود میں ٹھٹھرا ہوا مہتاب ملا

کہیں اشکوں کے دیئے ہیں نہ تبسم کے چراغ
لوگ پتھر کے ہوئے جاتے ہیں رفتہ رفتہ

نیند پلکوں کے دریچے سے لگی بیٹھی ہے
سونے دیتا ہی نہیں گرم ہوا کا جھونکا

وہ چہکتی ہوئی کھڑکی نہ مہکتے در و بام
ان کے کوچے میں بھی کل موت کا سناٹا تھا

لاکھ تہذیب کے غاروں میں چھپے ہم اخترؔ
پھر بھی عریانیت وقت سے دامن نہ بچا