کوئی بھی شہر میں کھل کر نہ بغل گیر ہوا
میں بھی اکتائے ہوئے لوگوں سے اکتا کے ملا
دن کے کاندھے پہ دہکتے ہوئے سورج کی صلیب
رات کی گود میں ٹھٹھرا ہوا مہتاب ملا
کہیں اشکوں کے دیئے ہیں نہ تبسم کے چراغ
لوگ پتھر کے ہوئے جاتے ہیں رفتہ رفتہ
نیند پلکوں کے دریچے سے لگی بیٹھی ہے
سونے دیتا ہی نہیں گرم ہوا کا جھونکا
وہ چہکتی ہوئی کھڑکی نہ مہکتے در و بام
ان کے کوچے میں بھی کل موت کا سناٹا تھا
لاکھ تہذیب کے غاروں میں چھپے ہم اخترؔ
پھر بھی عریانیت وقت سے دامن نہ بچا
غزل
کوئی بھی شہر میں کھل کر نہ بغل گیر ہوا
سلطان اختر

