EN हिंदी
کوئی آہٹ کوئی سرگوشی صدا کچھ بھی نہیں | شیح شیری
koi aahaT koi sargoshi sada kuchh bhi nahin

غزل

کوئی آہٹ کوئی سرگوشی صدا کچھ بھی نہیں

بلقیس ظفیر الحسن

;

کوئی آہٹ کوئی سرگوشی صدا کچھ بھی نہیں
گھر میں اک بے حس خموشی کے سوا کچھ بھی نہیں

نام اک نایاب سا لکھا تھا وہ بھی مٹ گیا
اب ہتھیلی پر لکیروں کے سوا کچھ بھی نہیں

بے چھوئے اک لمس کا احساس اک خاموش بات
اس کے میرے بیچ آخر تھا بھی کیا کچھ بھی نہیں

دوستی کیسی وفا کیسی تکلف بر طرف
آپ کچھ بھی ہوں مگر کیا دوسرا کچھ بھی نہیں

دیکھنا یہ ہے کہ ملنے کس سے پہلے کون آئے
میرے گھر سے اس کے گھر کا فاصلہ کچھ بھی نہیں