کتنے آسان راستے ہوتے
ہم اگر ساتھ چل رہے ہوتے
ہوتی اونچی اڑان اپنی بھی
پر اگر یوں نہ کٹ گئے ہوتے
خود سے فرصت ہمیں اگر ملتی
آپ کا ساتھ دے رہے ہوتے
بات تو کر کے دیکھتے باہم
پھر جو ہوتے سو فیصلے ہوتے
بات کرتے اگر ستاروں سے
شب کے ہمراہ رت جگے ہوتے
آرزو تھی کہ عشق میں شبنمؔ
دل کے دھاگے کہیں بندھے ہوتے
غزل
کتنے آسان راستے ہوتے
شبنم شکیل

