EN हिंदी
کسی نے پکڑا دامن اور کسی نے آستیں پکڑی | شیح شیری
kisi ne pakDa daman aur kisi ne aastin pakDi

غزل

کسی نے پکڑا دامن اور کسی نے آستیں پکڑی

نظام رامپوری

;

کسی نے پکڑا دامن اور کسی نے آستیں پکڑی
نہ اٹھا میں ہی اس کوچے سے یہ میں نے زمیں پکڑی

خدا شاہد ہے دل پر چوٹ سی اک لگ گئی میرے
بہانا درد سر کا کر کے جب اس نے جبیں پکڑی

سوا ان کے نہ کہنا اور سے آفت نہ کچھ آئے
نہ جانے بات میری قاصدا شاید کہیں پکڑی

بھلا اب مجھ سے چھٹتا ہے کہیں اس شوخ کا چسکا
یہ کیا ہے چھیڑ میری ہر گھڑی کی ہم نشیں پکڑی

غضب ہیں آپ بھی میں نے تو تم سے کان پکڑا ہے
ہوا جب کچھ میں کہنے کو زباں میری وہیں پکڑی

یہ قسمت وصل کی شب صبح تک تکرار میں گزری
ادھر کچھ میں نے ضد پکڑی ادھر اس نے ''نہیں'' پکڑی

مجھے ڈسواؤ اک مار سیہ سے یہ سزا دیجے
جفا کی اپنے صاحب کی جو زلف عنبریں پکڑی

خدا کے فضل سے ایسی طبیعت ہے نظامؔ اپنی
غزل دم میں کہی فضل خدا سے جو زمیں پکڑی