EN हिंदी
کسی کی شام سادگی سحر کا رنگ پا گئی | شیح شیری
kisi ki sham-e-sadgi sahar ka rang pa gai

غزل

کسی کی شام سادگی سحر کا رنگ پا گئی

درشن سنگھ

;

کسی کی شام سادگی سحر کا رنگ پا گئی
صبا کے پاؤں تھک گئے مگر بہار آ گئی

چمن کی جشن گاہ میں اداسیاں بھی کم نہ تھیں
جلی جو کوئی شمع گل کلی کا دل بجھا گئی

بتان رنگ رنگ سے بھرے تھے بت کدہ مگر
تیری ادائے سادگی مری نظر کو بھا گئی

میری نگاه تشنہ لب کی سر خوشی نہ پوچھئے
کے جب اٹھی نگاہ ناز پی گئی پلا گئی

خزاں کا دور ہے مگر وہ اس ادا سے آئے ہیں
بہار درشنؔ حزیں کی زندگی پہ چھا گئی