EN हिंदी
کسی کی قید سے آزاد ہو کے رہ گئے ہیں | شیح شیری
kisi ki qaid se aazad ho ke rah gae hain

غزل

کسی کی قید سے آزاد ہو کے رہ گئے ہیں

اجمل سراج

;

کسی کی قید سے آزاد ہو کے رہ گئے ہیں
تباہ ہو گئے برباد ہو کے رہ گئے ہیں

اب اور کیا ہو تمنائے وصل کا انجام
دل و دماغ تری یاد ہو کے رہ گئے ہیں

کہیں تو قصۂ احوال مختصر یہ ہے
ہم اپنے عشق کی روداد ہو کے رہ گئے ہیں

کسی کی یاد دلوں کا قرار ٹھہری ہے
کسی کے ذکر سے دل شاد ہو کے رہ گئے ہیں

ترے حضور جو رشک بہار تھے اجملؔ
خراب و خوار ترے بعد ہو کے رہ گئے ہیں