کسی کی چشم گریزاں میں جل بجھے ہم لوگ
عجب مشقت ہجراں میں جل بجھے ہم لوگ
ہم اپنے عکس کو آئینہ کرنے والے تھے
پہ ایک لمحۂ حیراں میں جل بجھے ہم لوگ
سنبھال پائے گا پھر کون خواب کا ورثہ
اسی خیال پریشاں میں جل بجھے ہم لوگ
جو آنکھ سے نہیں ٹپکے ان آنسوؤں کے ساتھ
خود اپنے خیمۂ مژگاں میں جل بجھے ہم لوگ
ہمارے خون کی قیمت پہ جو خریدی گئی
اسی بہار گلستاں میں جل بجھے ہم لوگ
کہاں تلک کہ اٹھاتے عذاب تنہائی
اکیلے حجلۂ ویراں میں جل بجھے ہم لوگ
سزائے موت سے بدتر ہے آگہی کی سزا
شعور حرف کے زنداں میں جل بجھے ہم لوگ
ہمیں کسی کا بہت انتظار تھا روحیؔ
سو بن کے شمع شبستاں میں جل بجھے ہم لوگ
غزل
کسی کی چشم گریزاں میں جل بجھے ہم لوگ
ریحانہ روحی