کسی درد مند کی ہوں صدا کسی دل جلے کی پکار ہوں
جو بگڑ گیا وہ نصیب ہوں جو اجڑ گئی وہ بہار ہوں
کوئی مجھ پہ پھول چڑھائے کیوں کوئی مجھ پہ شمع جلائے کیوں
کوئی میرے پاس بھی آئے کیوں کہ میں حسرتوں کا مزار ہوں
بھلا مجھ پہ ڈھائیں تو ڈھائیں کیا ستم اب زمانہ کی آندھیاں
میں بجھا ہوا سا چراغ ہوں میں مٹا ہوا سا غبار ہوں
کہوں کیا ہے کیا مری زندگی یہ ہے زندگی کوئی زندگی
وہ ہے دشمن دل و جاں مرا دل و جاں سے جس پہ نثار ہوں
شب و روز لب پہ ہے اے وفاؔ یہ دعا کہ موت ہی دے خدا
جو یہی ہے میرے نصیب میں کہ اسیر دام بلا رہوں
غزل
کسی درد مند کی ہوں صدا کسی دل جلے کی پکار ہوں
میلہ رام وفاؔ

