EN हिंदी
کسی بھی سمت نکلوں میرا پیچھا روز ہوتا ہے | شیح شیری
kisi bhi samt niklun mera pichha roz hota hai

غزل

کسی بھی سمت نکلوں میرا پیچھا روز ہوتا ہے

بھارت بھوشن پنت

;

کسی بھی سمت نکلوں میرا پیچھا روز ہوتا ہے
تعاقب میں کوئی گمنام سایہ روز ہوتا ہے

کسی اک موڑ پر ہر روز مجھ کو مل ہی جاتی ہے
تعارف زندگی سے غائبانہ روز ہوتا ہے

میں اک انجان منزل کے سفر پر جب نکلتا ہوں
تصور میں کوئی مانوس چہرہ روز ہوتا ہے

یہی تنہائیاں ہیں جو مجھے تجھ سے ملاتی ہیں
انہیں خاموشیوں سے تیرا چرچا روز ہوتا ہے

یہ اک احساس ہے ایسا کسی سے کہہ نہیں سکتا
تری موجودگی کا گھر میں دھوکا روز ہوتا ہے

شجر بے چارگی سے دیکھتا ہے اس تماشا کو
جدا شاخوں سے اس کی کوئی پتا روز ہوتا ہے

میں اپنے آپ پر بھی خود کو ظاہر کر نہیں سکتا
مرے احساس پر اک سخت پہرہ روز ہوتا ہے

یہ منظر دیکھ کر حیران رہ جاتی ہیں موجیں بھی
یہاں ساحل پہ اک ٹوٹا گھروندا روز ہوتا ہے

بہت دن سے ان آنکھوں کو یہی سمجھا رہا ہوں میں
یہ دنیا ہے یہاں تو اک تماشہ روز ہوتا ہے

میں اک کردار کی صورت کئی پرتوں میں جیتا ہوں
مری بے چہرگی کا ایک چہرہ روز ہوتا ہے