EN हिंदी
کسے خیال تھا ایسی بھی ساعتیں ہوں گی | شیح شیری
kise KHayal tha aisi bhi saaten hongi

غزل

کسے خیال تھا ایسی بھی ساعتیں ہوں گی

اعجاز گل

;

کسے خیال تھا ایسی بھی ساعتیں ہوں گی
کہ میرے نام سے بھی تجھ کو وحشتیں ہوں گی

سزائے مرگ کی صورت وصال گزرا تھا
بچھڑ گئے ہیں تو کیا کیا قیامتیں ہوں گی

جدائیوں میں زمانے نے کیا سلوک کیا
کبھی دوبارہ ملے تو حکایتیں ہوں گی

خوشا کہ اپنی وفا فاصلوں کی نذر ہوئی
ہمارے بعد زمیں پر رفاقتیں ہوں گی

اجڑ گیا ہوں مگر حوصلے سلامت ہیں
کہ ایک دن تجھے شاید ندامتیں ہوں گی