کس زباں سے شکوۂ جور ستم آرا کریں
جس کو اچھا کہہ چکے اس کی برائی کیا کریں
ان سے جب پوچھا گیا بسمل تمہارے کیا کریں
ہنس کے بولے زخم دل دیکھا کریں رویا کریں
ہو کے غش جلوے سے نقل حضرت موسیٰ کریں
آپ اگر پردہ اٹھا بھی دیں تو ہم پردا کریں
حسن سے وعدہ خلافی عشق سے توبا کریں
دین کے بھی ہوں برے دنیا کو بھی رسوا کریں
کم سے کم ایسی تو کچھ تدبیر کر اے جذب عشق
وہ ہمیں دیکھیں نہ دیکھیں ہم انہیں دیکھا کریں
اک زمانہ ہو رہا ہے عشق میں ہم سے خلاف
کس کے کس کے دل میں دل ڈالیں الٰہی کیا کریں
ہر طرف زنداں کی دیواروں پہ ہے تصویر دوست
اب جدھر چاہیں اسیران ستم سجدا کریں
واہ کیا اچھا تقاضا واہ کیا انصاف ہے
درد تو دیں آپ اور تاثیر ہم پیدا کریں
حضرت منظرؔ نہیں ہیں واعظو اس رنگ کے
آج مے خواری کریں کل بیٹھ کر توبا کریں
غزل
کس زباں سے شکوۂ جور ستم آرا کریں
منظر لکھنوی

