EN हिंदी
کس سے ٹھنڈک ہے کہ یہ سب ہیں جلانے والے | شیح شیری
kis se ThanDak hai ki ye sab hain jalane wale

غزل

کس سے ٹھنڈک ہے کہ یہ سب ہیں جلانے والے

دتا تریہ کیفی

;

کس سے ٹھنڈک ہے کہ یہ سب ہیں جلانے والے
نالے آہوں سے سوا آگ لگانے والے

بعد مردن تو ہوا سوز محبت پیدا
وہ مری قبر پہ ہیں شمع جلانے والے

کوٹھے پر چڑھ کے اڑایا نہ کریں آپ پتنگ
ڈورے ڈالیں نہ کہیں یار اڑانے والے

کیونکہ معشوقوں کے وعدوں پہ حیا کرتے تھے
بھولے بھالے تھے بہت اگلے زمانے والے

اڑتی چڑیاں کوئی کیا پکڑے گا ان کے آگے
اچھے اچھوں کو ہیں چٹکی میں اڑانے والے

ہم جو کہتے ہیں کہ مرتے ہیں تو فرماتے ہیں
ایسے دیکھے ہیں بہت جان سے جانے والے

لے کے دل آنکھ بھی تو ہم سے ملاتے وہ نہیں
تھے مرے دل کی طرح دن بھی یہ آنے والے