EN हिंदी
کس سے ملنے جاؤ اب کس سے ملاقاتیں کرو | شیح شیری
kis se milne jao ab kis se mulaqaten karo

غزل

کس سے ملنے جاؤ اب کس سے ملاقاتیں کرو

اعجاز عبید

;

کس سے ملنے جاؤ اب کس سے ملاقاتیں کرو
تم اکیلے ہو دل تنہا سے ہی باتیں کرو

پھر یوں ہی مل بیٹھیں ہم اور دکھ بھری باتیں کریں
ہاتھ اٹھا کر یہ دعا مانگو مناجاتیں کرو

سب پرندے اپنے اپنے جنگلوں میں کھو گئے
اب تو ہلتی ڈالیوں سے بیٹھ کر باتیں کرو

اتفاقاً ہم تمہارے سائے سے گزریں کبھی
بادلو تم پیار کے لمحوں کی برساتیں کرو

اب تو جیسے اس عمارت کو بھی چپ سی لگ گئی
کھڑکیو دروازو چہکو گاؤ کچھ باتیں کرو