کس قدر پیاس ملی آپ کے میخانے سے
عمر بھر آنکھوں میں چھلکا کئے پیمانے سے
کیسا جادو تھا ان آنکھوں میں جنہیں دیکھ کے ہم
مدتوں اپنوں میں پھرتے رہے بیگانے سے
میری تخئیل نے دنیا کو دئے پیراہن
کیا حقیقت ہے یہ پوچھو مرے افسانے سے
ٹوٹ جانے پہ بھی رشتوں کا بھرم باقی ہے
ان کا گھر دور نہیں ہے مرے ویرانے سے
کیا ملیں اوروں سے خود سے بھی نہیں مل پاتے
ایسے تنہا ہوئے ہم آپ کے آ جانے سے

غزل
کس قدر پیاس ملی آپ کے میخانے سے
مشتاق نقوی