EN हिंदी
کس نے کوئی سچ لکھا ہے یہ فقط الزام ہے | شیح شیری
kis ne koi sach likha hai ye faqat ilzam hai

غزل

کس نے کوئی سچ لکھا ہے یہ فقط الزام ہے

اسعد بدایونی

;

کس نے کوئی سچ لکھا ہے یہ فقط الزام ہے
شاعری محرومیوں کا خوب صورت نام ہے

بے غرض ملنے کی ساری منطقیں جھوٹی ہیں یار
تو جو آیا ہے تو اب بتلا بھی دے کیا کام ہے

اب کے میخانے کی مٹی پر کوئی دھبہ نہیں
رند ہیں ٹوٹے ہوئے ہاتھوں میں ثابت جام ہے

نے شکوۂ سروری ہے نے جمال دلبری
دل کسی فرعون‌‌ بے سامان کا اہرام ہے