کس کو لحد اور مرگ کا ڈر ہو
گھر کا سا آرام اگر ہو
وہ ہو اور عدو کا گھر ہو
رو رو کر کس طرح سحر ہو
حال مرا اس طرح دگر ہو
آہ ادھر ہو واہ ادھر ہو
ہر دم ہو احساس الم کا
دل سا ہمارا حال اگر ہو
موم کا سا احوال ہو دل کا
اس کو اگر اللہ کا ڈر ہو
اس کا دل اور درد عدو کا
کس کا دل اور کس کا گھر ہو
ہوگا ہر دم درد کا صدمہ
دل گو لاکھ آرام کا گھر ہو
غزل
کس کو لحد اور مرگ کا ڈر ہو
رشید رامپوری

