EN हिंदी
کس کو لحد اور مرگ کا ڈر ہو | شیح شیری
kis ko lahad aur marg ka Dar ho

غزل

کس کو لحد اور مرگ کا ڈر ہو

رشید رامپوری

;

کس کو لحد اور مرگ کا ڈر ہو
گھر کا سا آرام اگر ہو

وہ ہو اور عدو کا گھر ہو
رو رو کر کس طرح سحر ہو

حال مرا اس طرح دگر ہو
آہ ادھر ہو واہ ادھر ہو

ہر دم ہو احساس الم کا
دل سا ہمارا حال اگر ہو

موم کا سا احوال ہو دل کا
اس کو اگر اللہ کا ڈر ہو

اس کا دل اور درد عدو کا
کس کا دل اور کس کا گھر ہو

ہوگا ہر دم درد کا صدمہ
دل گو لاکھ آرام کا گھر ہو