EN हिंदी
کس کو خبر یہ ہستی کیا ہے کتنی حقیقت کتنا خواب | شیح شیری
kis ko KHabar ye hasti kya hai kitni haqiqat kitna KHwab

غزل

کس کو خبر یہ ہستی کیا ہے کتنی حقیقت کتنا خواب

سید شکیل دسنوی

;

کس کو خبر یہ ہستی کیا ہے کتنی حقیقت کتنا خواب
دشت فنا میں حیراں ہیں سب لے کر اپنا اپنا خواب

لپٹی ہوئی تھی ہم سے کیسی خوشبو اس کی یادوں کی
آنکھ کھلی تب جانا ہم نے دیکھا تھا اک پیارا خواب

اس کے تصور میں قربت کے دھوکے کتنے کھائے ہیں
پاس جو آئے ایسا لگے ہے آدھی حقیقت پورا خواب

کھو کر اس کو یوں لگتا ہے جیسے سب کچھ ہار گئے
اشکوں سے ہم جوڑ رہے ہیں اپنا بکھرا بکھرا خواب

دکھ تو یہی ہے ان باتوں سے تم کتنے انجان رہے
دل میں بسا کر تم کو ہم نے دیکھا کیسا کیسا خواب

دیکھ کے اس کو جانے ایسی سیدؔ جی کیا بات ہوئی
آنکھوں کی دہلیز پہ ہم نے پیار بھرا اک رکھا خواب