EN हिंदी
کیتا کہیں پکار اے غافل بیا بیا | شیح شیری
kita kahin pukar ai ghafil biya biya

غزل

کیتا کہیں پکار اے غافل بیا بیا

علیم اللہ

;

کیتا کہیں پکار اے غافل بیا بیا
پھرتا ہے کیوں تو بھول اپس کا پیا پیا

بوجھا ہے کیوں اجل کو اپس سے بعید کر
غفلت میں چپ عمر کو تو ضائع کیا کیا

اب تو سمجھ ٹک ایک ترا جان کون ہے
پاپا ہے جی کو جس نے موا نہیں جیا جیا

لیکن نہیں ہے کام ہر اک خام کا یہاں
عاشق وہی ہوا ہے کہ جو سر دیا دیا

پہنچا ہے جو کہ عشق میں منزل کو وصل کی
بے شک سکل جہاں میں ہوا بے ریا ریا

جو کوئی قدم کو اپنے رکھا راہ عشق میں
کہتے ہیں عاشقاں کی وہ منزل لیا لیا

دونوں جہاں سے کام نہیں مجھ کو اے علیمؔ
بس ہے مجھے کریم دیا سو ہیا ہیا