EN हिंदी
خواہش پرواز ہے تو بال و پر بھی چاہئے | شیح شیری
KHwahish-e-parwaz hai to baal-o-par bhi chahiye

غزل

خواہش پرواز ہے تو بال و پر بھی چاہئے

بھارت بھوشن پنت

;

خواہش پرواز ہے تو بال و پر بھی چاہئے
میں مسافر ہوں مجھے رخت سفر بھی چاہئے

اس قدر بھی رنج کا خوگر نہیں ہوں میں ابھی
راستے میں دھوپ ہو تو اک شجر بھی چاہئے

یوں مکمل ہو نہیں سکتا کوئی بھی عکس ہو
آئنہ بھی چاہئے ذوق نظر بھی چاہئے

صرف سانسوں کا تسلسل ہی نہیں ہے زندگی
اپنے ہونے کی ہمیں کوئی خبر بھی چاہئے

دوستوں کی اس ادا پر ہو گیا قربان میں
میری پگڑی لے چکے اب میرا سر بھی چاہئے

مطمئن صحرا میں آ کے بھی نہیں تنہائیاں
شام ہوتے ہی انہیں دیوار و در بھی چاہئے