EN हिंदी
خوابوں کی تفصیل بتا کر جائیں گے | شیح شیری
KHwabon ki tafsil bata kar jaenge

غزل

خوابوں کی تفصیل بتا کر جائیں گے

انور سدید

;

خوابوں کی تفصیل بتا کر جائیں گے
جو اٹھی ہے دھول بٹھا کر جائیں گے

آپ اگر چاہیں تو ہاں آرام کریں
ہم تو بس آواز لگا کر جائیں گے

کہتے ہیں پیمان نبھانا مشکل ہے
ہم اپنا پیمان نبھا کر جائیں گے

جذبے نے جو رنگ نکھارے آنکھوں میں
ان سے ہم تصویر بنا کر جائیں گے

آپ نے جو دیوار اساری نفرت کی
انورؔ یہ دیوار گرا کر جائیں گے