EN हिंदी
خون پلکوں پہ سر شام جمے گا کیسے | شیح شیری
KHun palkon pe sar-e-sham jamega kaise

غزل

خون پلکوں پہ سر شام جمے گا کیسے

فضیل جعفری

;

خون پلکوں پہ سر شام جمے گا کیسے
درد کا شہر جو اجڑا تو بسے گا کیسے

روز و شب یادوں کے آسیب ستائیں گے کوئی
شہر میں تجھ سے خفا ہو کے رہے گا کیسے

دل جلا لیتے تھے ہم لوگ اندھیروں میں مگر
دل بھی ان تیز ہواؤں میں جلے گا کیسے

کس مصیبت سے یہاں تک ترے ساتھ آئے تھے
راستہ تجھ سے الگ ہو کے کٹے گا کیسے

آخر اس کو بھی ہے کچھ جعفریؔ دنیا کا خیال
دیر تک رات گئے ساتھ رہے گا کیسے