EN हिंदी
خوشیاں مت دے مجھ کو درد و کیف کی دولت دے سائیں | شیح شیری
KHushiyan mat de mujhko dard-o-kaif ki daulat de sain

غزل

خوشیاں مت دے مجھ کو درد و کیف کی دولت دے سائیں

شاہد کمال

;

خوشیاں مت دے مجھ کو درد و کیف کی دولت دے سائیں
مجھ کو میرے دل کے اک اک زخم کی اجرت دے سائیں

میری انا کی شہ رگ پر خود میری انا کا خنجر ہے
میرے لہو کے ہر قطرے کو پھر سے حدت دے سائیں

اسم ذات کا راز ہے جو خود میرے اوپر فاش تو کر
میرے دل کے آئینے کو پھر سے حیرت دے سائیں

توڑ دے وہ دیوار نفس جو بیچ میں میرے حائل ہے
مجھ کو مجھ سے ملنے کی اک بار جو مہلت دے سائیں

میں بھی تو مٹی ہوں وہ بھی تیرے چاک کی مٹی ہوں
اپنے چاک کی مٹی کو اچھی سی صورت دے سائیں

دنیا کا یہ جاہ و حشم یہ منصب یہ جاگیر ہے کیا
دولت کیسی مجھ کو میرا کاسۂ عسرت دے سائیں

میرے اس لہجے کو بھی اب ایک نیا آہنگ تو دے
میرے سارے الفاظ و افکار کو ندرت دے سائیں

کار جہاں کے منصب سے تو شاہدؔ کو معزول بھی کر
کام اسے جو کچھ بھی دے وہ حسب ضرورت دے سائیں