EN हिंदी
خنک ہوا کا یہ جھونکا شرار کیسے ہوا | شیح شیری
KHunuk hawa ka ye jhonka sharar kaise hua

غزل

خنک ہوا کا یہ جھونکا شرار کیسے ہوا

پرکاش فکری

;

خنک ہوا کا یہ جھونکا شرار کیسے ہوا
یہ میرا شہر دکھوں کا دیار کیسے ہوا

بجھے بجھے تھے بہت نقش جب کہ موسم کے
لہو کے رنگ کا ان پہ نکھار کیسے ہوا

بنا ہوں جس سے خطا کار سب کی آنکھوں میں
وہ جرم مجھ سے بتا بار بار کیسے ہوا

ملا نہ جس کو بلاوا کبھی سمندر کا
وہ شخص موج بلا کا شکار کیسے ہوا

بہ شکل عمر ملی بھیک جس سے لمحوں کی
وہ وقت میرے لئے بے کنار کیسے ہوا

وہ جسم جس پہ بہت ناز تھا تجھے فکریؔ
وہ جسم دشت فنا کا غبار کیسے ہوا