EN हिंदी
کھلا یہ ان کے انداز بیاں سے | شیح شیری
khula ye un ke andaz-e-bayan se

غزل

کھلا یہ ان کے انداز بیاں سے

رشید رامپوری

;

کھلا یہ ان کے انداز بیاں سے
مروت اٹھ گئی سارے جہاں سے

مجھے وہ رنج دیں یا رحم کھائیں
کروں ان کی شکایت کس زباں سے

رہ محبوب میں اللہ رے شوق
قدم رکھتا ہوں آگے کارواں سے

جہاں میں ہے وہی تقدیر والا
سلامت جو رہا تیری زباں سے

کسی کا پاس رسوائی کہاں تک
گلا گھٹنے لگا ضبط فغاں سے

عدم کا حال آخر کس سے پوچھیں
کوئی اٹھتا بھی ہو خواب گراں سے

رشیدؔ اب ترک ملت کیجئے آپ
نہیں کچھ فائدہ اہل جہاں سے