کھلا یہ راز کہ یہ زندگی بھی ہوتی ہے
بچھڑ کے تجھ سے ہمیں اب خوشی بھی ہوتی ہے
وہ فون کر کے مرا حال پوچھ لیتا ہے
نمک حراموں کی کیٹگری بھی ہوتی ہے
مزاج پوچھنے والے مزا بھی لیتے ہیں
کبھی جو درد میں تھوڑی کمی بھی ہوتی ہے
یہی تو کھولتی ہے دشمنی کا دروازہ
خراب چیز میاں دوستی بھی ہوتی ہے
تم اپنے قدموں کی رفتار پر بہت خوش ہو
یہ ریل گاڑی کہیں پر کھڑی بھی ہوتی ہے
غزل
کھلا یہ راز کہ یہ زندگی بھی ہوتی ہے
حسیب سوز