EN हिंदी
کھلا ہے تیرے بدن کا بھی استعارہ کچھ | شیح شیری
khula hai tere badan ka bhi istiara kuchh

غزل

کھلا ہے تیرے بدن کا بھی استعارہ کچھ

عامر نظر

;

کھلا ہے تیرے بدن کا بھی استعارہ کچھ
بیان حرف و نوا پیرہن تمہارا کچھ

غبار گرد میں گم تھا سحر کا مینارہ
شفق کے ساتھ ہوا پھر بھی آشکارہ کچھ

طلسم شب کی فصیلوں کو توڑ ڈالے گا
ستون وقت پہ بجھتا ہوا ستارہ کچھ

سکوت شام کا منظر بدلنے والا ہے
مری نگاہ کا ہے عکس پارہ پارہ کچھ

نشان زیست ابھی کیسے روشنی پائے
کہ تیرگی کا مقدر میں ہے اجارہ کچھ

خبر تھی شیشۂ حیراں پہ بال آئے گا
جنوں کے درمیاں چہرے کو یوں اتارا کچھ

یقیں کے بام سے عامرؔ دکھائی دیتا ہے
گماں کی راکھ میں پوشیدہ ہے شرارہ کچھ