EN हिंदी
کھل گیا ان کی مسیحائی کا عالم شب وصل | شیح شیری
khul gaya unki masihai ka aalam shab-e-wasl

غزل

کھل گیا ان کی مسیحائی کا عالم شب وصل

حاتم علی مہر

;

کھل گیا ان کی مسیحائی کا عالم شب وصل
میرا دم بند ہے دیتے ہیں مجھے دم شب وصل

جیب کے پرزے اڑے پھٹ گئی محرم شب وصل
میرے ان کے رہا کچھ اور ہی عالم شب وصل

جی میں ہے کہئے موذن سے یہ ہمدم شب وصل
یوں نہ چیخا کرو اے قبلۂ عالم شب وصل

وہ نہ سوئے ہوں جدا یا نہ لڑے ہوں ہم سے
اس طرح کی ہوئی صحبت تو بہت کم شب وصل

صبح ہوتے ہی مجھے اشکوں سے منہ دھونا ہے
مجھ سے آنکھیں نہ چرا دیدۂ پر نم شب وصل