EN हिंदी
خود کو جب تیرے مقابل پایا | شیح شیری
KHud ko jab tere muqabil paya

غزل

خود کو جب تیرے مقابل پایا

پروین فنا سید

;

خود کو جب تیرے مقابل پایا
اپنی پہچان کا لمحہ آیا

عکس در عکس تھے رنگوں کے چراغ
میں نے مٹی کا دیا اپنایا

ایک پل ایک صدی پر بھاری
سوچ پر ایسا بھی لمحہ آیا

پاؤں چھلنی تو وفا گھائل تھی
جانے اس موڑ پہ کیا یاد آیا

ایک لمحے کے تبسم کا فسوں
جاں سے گزرے تو سمجھ میں آیا