EN हिंदी
خود کو ہر آرزو کے اس پار کر لیا ہے | شیح شیری
KHud ko har aarzu ke us par kar liya hai

غزل

خود کو ہر آرزو کے اس پار کر لیا ہے

امیر امام

;

خود کو ہر آرزو کے اس پار کر لیا ہے
ہم نے اب اس کا سایہ دیوار کر لیا ہے

جاتی تھی میرے دل سے جو تیرے آستاں تک
دنیا نے اس گلی میں بازار کر لیا ہے

دے داد آ کے باہر شہ رگ سے خوں ہمارا
اس نے جو اپنا چہرہ گلنار کر لیا ہے

بس چشم خوں فشاں کو ملتے نہیں ہیں آنسو
ورنہ ترا مرکب تیار کر لیا ہے

ہے وجہ کج کلاہی طوق گلو ہمارا
زنجیر پا کو اپنی تلوار کر لیا ہے

محسوس کر رہا ہوں خاروں میں قید خوشبو
آنکھوں کو تیری جانب اک بار کر لیا ہے

اس بار وہ بھی ہم سے انکار کر نہ پایا
ہم نے بھی اب کی اس سے اقرار کر لیا ہے