EN हिंदी
خود فرشتے تو نہیں ہیں جو مجھے لے جا رہے ہیں | شیح شیری
KHud farishte to nahin hain jo mujhe le ja rahe hain

غزل

خود فرشتے تو نہیں ہیں جو مجھے لے جا رہے ہیں

شجاع خاور

;

خود فرشتے تو نہیں ہیں جو مجھے لے جا رہے ہیں
بندے مجھ کو کیوں خدا کے سامنے لے جا رہے ہیں

دل جگر شاہوں کے آگے کس لئے لے جا رہے ہیں
رت قصیدوں کی ہے اور ہم مرثیے لے جا رہے ہیں

ہم بھی دو اک شعر لے چلتے ہیں تیرے چشم و لب سے
پھول بھی خوشبو تجھی سے مانگ کے لے جا رہے ہیں

کندھا دیتے چل رہے ہیں راستے والوں کو بھی ہم
اپنی میت کو بھی ہم کس شان سے لے جا رہے ہیں

آج پہلی بار توبہ کا ارادہ ہو رہا ہے
شیخ صاحب آج ہم کو میکدے لے جا رہے ہیں