EN हिंदी
خود اپنے ساتھ سفر میں رہے تو اچھا ہے | شیح شیری
KHud apne sath safar mein rahe to achchha hai

غزل

خود اپنے ساتھ سفر میں رہے تو اچھا ہے

امیر قزلباش

;

خود اپنے ساتھ سفر میں رہے تو اچھا ہے
وہ بے خبر ہے خبر میں رہے تو اچھا ہے

قدم قدم یونہی رکھنا دلوں میں اندیشہ
چراغ راہ گزر میں رہے تو اچھا ہے

کبھی کبھی مرے دامن کے کام آئے گی
یہ دھوپ دیدۂ تر میں رہے تو اچھا ہے

میں دل کا حال نہ آنے دوں اپنی پلکوں تک
یہ گھر کی بات ہے گھر میں رہے تو اچھا ہے

کیا ہے تند ہواؤں کا سامنا جس نے
وہ پھول شاخ شجر میں رہے تو اچھا ہے