EN हिंदी
خود اپنے ہی ہاتھوں کا لکھا کاٹ رہا ہوں | شیح شیری
KHud apne hi hathon ka likha kaT raha hun

غزل

خود اپنے ہی ہاتھوں کا لکھا کاٹ رہا ہوں

منور رانا

;

خود اپنے ہی ہاتھوں کا لکھا کاٹ رہا ہوں
لے دیکھ لے دنیا میں پتا کاٹ رہا ہوں

یہ بات مجھے دیر سے معلوم ہوئی ہے
زنداں ہے یہ دنیا میں سزا کاٹ رہا ہوں

دنیا مرے سجدے کو عبادت نہ سمجھنا
پیشانی پہ قسمت کا لکھا کاٹ رہا ہوں

اب آپ کی مرضی ہے اسے جو بھی سمجھئے
لیکن میں اشارے سے ہوا کاٹ رہا ہوں

تو نے جو سزا دی تھی جوانی کے دنوں میں
میں عمر کی چوکھٹ پہ کھڑا کاٹ رہا ہوں