EN हिंदी
خرقہ پوشی میں خود نمائی ہے | شیح شیری
KHirqa-poshi mein KHud-numai hai

غزل

خرقہ پوشی میں خود نمائی ہے

داؤد اورنگ آبادی

;

خرقہ پوشی میں خود نمائی ہے
ہاتھ بس کاسۂ گدائی ہے

بوریا بھی نہیں اسے درکار
جس کے تئیں شوق بے ریائی ہے

گل سب ہنستے ہیں بزم گلشن میں
عشق بلبل مگر ریائی ہے

جلد جاتی ہے آسماں اوپر
آہ میری عجب ہوائی ہے

شمع مینا کے نور سوں ساقی
محفل دل میں روشنائی ہے

ہر گھڑی دیکھتا ہے درپن کوں
شوخ میں طرز خود نمائی ہے

جب سوں دیکھا ہوں اس کی زلف دراز
تب سوں مجھ فکر میں رسائی ہے

کاں یو دیکھا ہے خواب میں مخمل
تجھ کف پا میں جو صفائی ہے

کیوں نہ ہوئے ماہ نو مثال عزیز
جس منے رسم کم نمائی ہے

دست گل رو میں پہنچنے داؤدؔ
کاغذ خط مرا حنائی ہے