EN हिंदी
خرد کو آزمانا چاہتا ہوں | شیح شیری
KHirad ko aazmana chahta hun

غزل

خرد کو آزمانا چاہتا ہوں

شکیل بدایونی

;

خرد کو آزمانا چاہتا ہوں
جنوں کی زد پہ لانا چاہتا ہوں

جو تھی حاصل تری محفل سے پہلے
اسی خلوت میں جانا چاہتا ہوں

نہ ہوں جس میں نمایاں حال و ماضی
کوئی ایسا زمانہ چاہتا ہوں

تری خاطر جنہیں بیگانہ سمجھا
انہیں اپنا بنانا چاہتا ہوں

محبت پر پئے ترک محبت
کوئی تہمت لگانا چاہتا ہوں