EN हिंदी
خیال جبہ و دستار بھی نہیں باقی | شیح شیری
KHayal-e-jubba-o-dastar bhi nahin baqi

غزل

خیال جبہ و دستار بھی نہیں باقی

قتیل شفائی

;

خیال جبہ و دستار بھی نہیں باقی
وہ کشمکش ہے کہ اک تار بھی نہیں باقی

چمن کو روند گئے قافلے بہاروں کے
گلوں کا ذکر ہی کیا خار بھی نہیں باقی

لگی ہوئی ہیں ضمیر حیات پر مہریں
کسی میں جرأت اظہار بھی نہیں باقی

کبھی کبھی جو رگ جاں سے پھوٹ پڑتا ہے
وہ نغمۂ رسن و دار بھی نہیں باقی

ہمیں تو کفر کا طعنہ دیا تھا واعظ نے
حرم میں اب کوئی دیں دار بھی نہیں باقی

لٹا جو اپنا گلستاں تو ہم نے یہ سمجھا
کوئی بہشت افق پار بھی نہیں باقی

گزر گئے وہ سخن فہمیوں کے ہنگامے
کوئی کسی کا طرفدار بھی نہیں باقی