EN हिंदी
خطر ہے رشتہ الفت رگ گردن نہ ہو جاوے | شیح شیری
KHatar hai rishta-e-ulfat rag-e-gardan na ho jawe

غزل

خطر ہے رشتہ الفت رگ گردن نہ ہو جاوے

مرزا غالب

;

خطر ہے رشتہ الفت رگ گردن نہ ہو جاوے
غرور دوستی آفت ہے تو دشمن نہ ہو جاوے

سمجھ اس فصل میں کوتاہی نشو و نما غالبؔ
اگر گل سرو کے قامت پہ پیراہن نہ ہو جاوے