خطر ہے رشتہ الفت رگ گردن نہ ہو جاوے
غرور دوستی آفت ہے تو دشمن نہ ہو جاوے
سمجھ اس فصل میں کوتاہی نشو و نما غالبؔ
اگر گل سرو کے قامت پہ پیراہن نہ ہو جاوے
غزل
خطر ہے رشتہ الفت رگ گردن نہ ہو جاوے
مرزا غالب
غزل
مرزا غالب
خطر ہے رشتہ الفت رگ گردن نہ ہو جاوے
غرور دوستی آفت ہے تو دشمن نہ ہو جاوے
سمجھ اس فصل میں کوتاہی نشو و نما غالبؔ
اگر گل سرو کے قامت پہ پیراہن نہ ہو جاوے