EN हिंदी
خفا ہے گر یہ خدائی تو فکر ہی کیا ہے | شیح شیری
KHafa hai gar ye KHudai to fikr hi kya hai

غزل

خفا ہے گر یہ خدائی تو فکر ہی کیا ہے

حفیظ بنارسی

;

خفا ہے گر یہ خدائی تو فکر ہی کیا ہے
تری نگاہ سلامت مجھے کمی کیا ہے

بس اک تجلیٔ رنگیں بس اک تبسم ناز
ریاض دہر میں پھولوں کی زندگی کیا ہے

خدا رسیدہ سہی لاکھ برگزیدہ سہی
جو آدمی کو نہ سمجھے وہ آدمی کیا ہے

عبث یہ مشق رکوع و سجود ہے یارو
اگر پتہ نہیں مفہوم بندگی کیا ہے

کہیں یہ لطف و عنایت کی ابتدا تو نہیں
تمہیں بتاؤ یہ انداز برہمی کیا ہے

دلوں کے تار جو چھو لے وہی ہے شعر حفیظؔ
اگر یہ بات نہیں ہے تو شاعری کیا ہے