EN हिंदी
خانۂ امید بے نور و ضیا ہونے کو ہے | شیح شیری
KHana-e-ummid be-nur-o-ziya hone ko hai

غزل

خانۂ امید بے نور و ضیا ہونے کو ہے

شکیل بدایونی

;

خانۂ امید بے نور و ضیا ہونے کو ہے
چشم تر سے آخری آنسو جدا ہونے کو ہے

یہ بھی اے دل اک فریب وعدۂ فردا نہ ہو
روز سنتا ہوں کوئی محشر بپا ہونے کو ہے

دور ہوں لیکن بتا سکتا ہوں ان کی بزم میں
کیا ہوا کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے کو ہے

کھل رہی ہے آنکھ اک کافر حسیں کی صبح دم
مے کشو مژدہ در مے خانہ وا ہونے کو ہے

ترک الفت کو زمانہ ہو گیا لیکن شکیلؔ
آج پھر میرا اور ان کا سامنا ہونے کو ہے