خانۂ امید بے نور و ضیا ہونے کو ہے
چشم تر سے آخری آنسو جدا ہونے کو ہے
یہ بھی اے دل اک فریب وعدۂ فردا نہ ہو
روز سنتا ہوں کوئی محشر بپا ہونے کو ہے
دور ہوں لیکن بتا سکتا ہوں ان کی بزم میں
کیا ہوا کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے کو ہے
کھل رہی ہے آنکھ اک کافر حسیں کی صبح دم
مے کشو مژدہ در مے خانہ وا ہونے کو ہے
ترک الفت کو زمانہ ہو گیا لیکن شکیلؔ
آج پھر میرا اور ان کا سامنا ہونے کو ہے
غزل
خانۂ امید بے نور و ضیا ہونے کو ہے
شکیل بدایونی

