خاموشیوں کو عالم اصوات پر کبھی
پھینکا گیا تھا شور حکایات پر کبھی
کیوں میرے اختیار سے باہر نکل گئیں
آنکھیں تھیں اپنی عکس مضافات پر کبھی
اور اس کے بعد دید کا منظر سمٹ گیا
ظاہر ہوا تھا شعلہ خرابات پر کبھی
تو میری دسترس میں رہے گا یقین ہے
دنیا نہیں سہی تو سماوات پر کبھی
عکس خودی کا جامہ پہن کر نکل گیا
ابھرا جو نقش روئے خیالات پر کبھی
عامرؔ اب انتشار کی پرچھائیاں تمام
تھا لمحۂ سکون مکانات پر کبھی
غزل
خاموشیوں کو عالم اصوات پر کبھی
عامر نظر

