کون کہتا ہے کہ مر جانے سے کچھ حاصل نہیں
زندگی اس کی ہے مر جانا جسے مشکل نہیں
ہاں یہ سارا کھیل پروانوں کی جاں بازی کا ہے
شمع روشن پر مدار گریۂ محفل نہیں
عام ہی کرنا پڑے گا ان کو فیض التفات
غیر ہرگز التفات خاص کے قابل نہیں
منتخب میں ہی ہوا مشق تغافل کے لیے
وہ تغافل کیش میری یاد سے غافل نہیں
حلقۂ گرداب ہے گہوارۂ عشرت مجھے
ذوق آسائش مرا منت کش ساحل نہیں
دیکھیے کیا ہو ہمارے شوق منزل کا مآل
پاؤں میں طاقت بقدر دوری منزل نہیں
لاکھ دل قربان اس چشم ندامت کیش پر
یعنی مجھ کو آرزو خوں بہائے دل نہیں
مرجع برق بلا ہے اے وفاؔ دنیائے عشق
حاصل حسرت یہاں جز حسرت حاصل نہیں
غزل
کون کہتا ہے کہ مر جانے سے کچھ حاصل نہیں
میلہ رام وفاؔ

