EN हिंदी
کٹتی ہے کوئی دم یہیں اوقات مزے کی | شیح شیری
kaTti hai koi dam yahin auqat maze ki

غزل

کٹتی ہے کوئی دم یہیں اوقات مزے کی

محمد امان نثار

;

کٹتی ہے کوئی دم یہیں اوقات مزے کی
دنیا میں عجب جا ہے خرابات مزے کی

کہتا ہے مبارک کوئی کہتا ہے سلامت
ہے روٹھ کے ملنا بھی ملاقات مزے کی

آگے تو یہ چپ چاپ کا مذکور نہیں تھا
ہوتی تھی کئی ڈھب سے عنایات مزے کی

بومہ ہے نہ گالی ہے نہ چشمک زدنی ہے
کیا ہے جو نہیں آج اشارات مزے کی

ہونے دے خیال اس کا نثارؔ اور طرف ٹک
بوسے کی لگا رکھی ہے میں گھات مزے کی