EN हिंदी
کل خواب میں اک پری ملی تھی | شیح شیری
kal KHwab mein ek pari mili thi

غزل

کل خواب میں اک پری ملی تھی

احمد عطا

;

کل خواب میں اک پری ملی تھی
اک بوسے کے بعد اڑ گئی تھی

میں اس کے لیے دھنک بنا تھا
وہ اور ہی رنگ ڈھونڈھتی تھی

دیوی تھی جسے میں پوجتا تھا
وہ اور کسی کو سوچتی تھی

میں راہ گناہ پر چلا تھا
اس راہ میں کیسی تیرگی تھی

چھ راستے واں نکل رہے تھے
اک سمت ذرا سی روشنی تھی

آخر میں دعا میں ڈھل چکا تھا
دنیا مجھے آ کے دیکھتی تھی