EN हिंदी
کج کلاہی کی ادا یاد آئی | شیح شیری
kaj-kulahi ki ada yaad aai

غزل

کج کلاہی کی ادا یاد آئی

گوپال متل

;

کج کلاہی کی ادا یاد آئی
کوئے قاتل کی ہوا یاد آئی

دل کو شاید نہیں یاراۓ وفا
ورنہ کیوں تیری جفا یاد آئی

اس کی بیداد کے ہر ذکر کے ساتھ
اس کی ایک ایک ادا یاد آئی

دل کے خوں ہونے کی جب بات چلی
اس کی خوشبوئے حنا یاد آئی

شکریہ ناصح مشفق کہ پھر آج
اپنی روداد وفا یاد آئی