EN हिंदी
کہیں سوتا نہ رہ جاؤں صدا دے کر جگاؤ نا | شیح شیری
kahin sota na rah jaun sada de kar jagao na

غزل

کہیں سوتا نہ رہ جاؤں صدا دے کر جگاؤ نا

آفتاب اقبال شمیم

;

کہیں سوتا نہ رہ جاؤں صدا دے کر جگاؤ نا
مجھے ان آٹھ پہروں سے کبھی باہر بلاؤ نا

کھلی آنکھوں سے کب تک جستجو کا خواب دیکھوں گا
حجاب ہفت پردہ اپنے چہرے سے اٹھاؤ نا

ستارے پر ستارہ اوک میں بہتا چلا آئے
کسی شب کہکشاں انڈیل کر مجھ کو پلاؤ نا

جو چاہو تو زمانے کا زمانہ واژگوں کر دو
مگر پہلے حدود جاں میں ہنگامہ اٹھاؤ نا

سبک دوش زیاں کر دیں زیاں اندیشیاں دل کی
ذرا اسباب دنیا راہ دنیا میں لٹاؤ نا

لئے جاتے ہیں لمحے ریزہ ریزہ کر کے آنکھوں کو
نہایت دیر سے میں منتظر بیٹھا ہوں آؤ نا