EN हिंदी
کہا جب تم سے چارہ درد دل کا ہو نہیں سکتا | شیح شیری
kaha jab tum se chaara dard-e-dil ka ho nahin sakta

غزل

کہا جب تم سے چارہ درد دل کا ہو نہیں سکتا

حسن بریلوی

;

کہا جب تم سے چارہ درد دل کا ہو نہیں سکتا
تو جھنجھلا کر کہا تیرا کلیجا ہو نہیں سکتا

وہ اپنی ضد کے پورے ہٹ کے پورے آن کے پورے
فقط اتنی کمی ہے قول پورا ہو نہیں سکتا

کہاں کی چارہ فرمائی عیادت تک نہیں کرتے
مسیحائی پہ مرتے ہیں اور اتنا ہو نہیں سکتا

سر طور ان کے جلوے نے پکارا خود نما ہو کر
کہ اپنے چاہنے والے سے پردا ہو نہیں سکتا

کہا جب ان سے میری زندگی تم ہو کہا ہنس کر
میں سمجھا اب تمہیں میرا بھروسا ہو نہیں سکتا

مرا گھر غیر کا گھر تو نہیں کیوں کر وہ کھل کھیلیں
نگاہیں اٹھ نہیں سکتیں اشارا ہو نہیں سکتا

شرفؔ اور رشکؔ کے کہنے سے کچھ تک بندیاں کر لیں
حسنؔ افکار میں ہم سے دو غزلا ہو نہیں سکتا