کبھی یقین کی دنیا میں جو گئے سپنے
اداسیوں کے سمندر میں کھو گئے سپنے
برس رہی تھی حقیقت کی دھوپ گھر باہر
سہم کے آنکھ کے آنچل میں کھو گئے سپنے
کبھی اڑا کے مجھے آسمان تک لائے
کبھی شراب میں مجھ کو ڈبو گئے سپنے
ہمیں تھے نیند میں جو ان کو سائباں سمجھا
کھلی جو آنکھ تو دامن بھگو گئے سپنے
کھلی رہی جو مری آنکھ میرے مرنے پر
سدا سدا کے لیے آج کھو گئے سپنے
غزل
کبھی یقین کی دنیا میں جو گئے سپنے
مینک اوستھی

