EN हिंदी
کبھی وفائیں کبھی بے وفائیاں دیکھیں | شیح شیری
kabhi wafaen kabhi bewafaiyan dekhin

غزل

کبھی وفائیں کبھی بے وفائیاں دیکھیں

مصحفی غلام ہمدانی

;

کبھی وفائیں کبھی بے وفائیاں دیکھیں
میں ان بتوں کی غرض آشنائیاں دیکھیں

ہم اٹھ چلے جو کبھی اس گلی کو وحشت میں
تو اس گھڑی نہ کنویں اور نہ کھائیاں دیکھیں

زہے نصیب ہیں اس کے کہ جس نے وصل کی شب
گلے میں اپنے وہ نازک کلائیاں دیکھیں

یہ سطح خاک ہے کیا رزم گاہ کا میدان
کہ جس پہ ہوتی ہوئی نت لڑائیاں دیکھیں

گلی میں اس کی یہ بازار مرگ گرم ہوا
کہ داد خواہوں کی واں چارپائیاں دیکھیں

رکھا نہ خط کبھی عارض پہ اس پری رو نے
برنگ آئینہ نت واں صفائیاں دیکھیں

ہنوز جیتے رہے ہیں تو سخت جانی سے
وگرنہ ہم نے بھی کیا کیا جدائیاں دیکھیں

نہ ہاتھ آئی مرے مصحفیؔ وہ زلف رسا
میں طالعوں کی بھی اپنے رسائیاں دیکھیں